حدیث نمبر: 3871
عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ: سَمِعْتُ لَيْلَى امْرَأَةَ بِشْرٍ تَقُولُ: إِنَّ بَشِيرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَأَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَا أُكَلِّمُ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَحَدًا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ أَحَدُهَا أَوْ فِي شَهْرٍ، وَأَمَّا أَنْ لَا تُكَلِّمَ أَحَدًا فَلَعَمْرِي! لَا أَنْ تَكَلَّمَ بِمَعْرُوفٍ وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر کہتی ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گا اور اس دن کسی سے کلام نہیں کروں گا، (یہ جائز ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھنا، الّا یہ کہ دوسرے دنوں میں یا مہینے میں (ایک عادت کے ساتھ) روزے رکھے جا رہے ہوں اور یہ جمعہ کا دن بھی ان میں سے ایک ہو جائے، باقی رہا مسئلہ تمہارے خاموش رہنے کا تو میری عمر کی قسم! تمہارا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے لیے بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3871
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 1232، والبيھقي: 10/ 75، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22300»