الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَفْرَادِ يَوْمَيِ الْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ بِالصِّيَامِ باب: صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3869
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ، فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کا دن، عید کا دن ہے، پس تم اِس عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ اس سے پہلے ایک دن روزہ رکھ لو یا بعد والے دن۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَلَا تَخْتَصُّوْا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِیْ وَلَا تَخْتَصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ فِیْ صَوْمٍ یَصُوْمُہٗ اَحَدُکُمْ۔))
’’جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ اور جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کرو، الّا یہ کہ جمعہ کا دن کسی کی عادت والے روزے میں آ جائے۔ ‘‘
اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آدمی کے لیے جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہے، جو جمعرات یا ہفتہ کو بھی روزہ رکھے، اسی طرح وہ شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس کی عادت میں جمعہ کا دن آجائے، مثلا ایک آدمی ہر سال عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ رکھتا ہے، اگر اتفاق سے یہ دن جمعہ کا بھی ہو تو اس کیلئے روزہ رکھنا جائز ہو گا۔ جمعہ کا دن اس اعتبار سے عید ہے کہ اس میں ہفتے کے باقی دنوں کی بہ نسبت کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لوگ نمازِ عید کی طرح نمازِ جمعہ میں جمع ہوتے ہیںاور عید کے خطبے کی طرح اس میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہانا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا، یہ امور بھی عید سے مشابہت پیدا کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
’’جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ اور جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کرو، الّا یہ کہ جمعہ کا دن کسی کی عادت والے روزے میں آ جائے۔ ‘‘
اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آدمی کے لیے جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہے، جو جمعرات یا ہفتہ کو بھی روزہ رکھے، اسی طرح وہ شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس کی عادت میں جمعہ کا دن آجائے، مثلا ایک آدمی ہر سال عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ رکھتا ہے، اگر اتفاق سے یہ دن جمعہ کا بھی ہو تو اس کیلئے روزہ رکھنا جائز ہو گا۔ جمعہ کا دن اس اعتبار سے عید ہے کہ اس میں ہفتے کے باقی دنوں کی بہ نسبت کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لوگ نمازِ عید کی طرح نمازِ جمعہ میں جمع ہوتے ہیںاور عید کے خطبے کی طرح اس میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہانا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا، یہ امور بھی عید سے مشابہت پیدا کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب