الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ باب: ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت
حدیث نمبر: 3868
عَنْ يَوْنُسَ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنایونس بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔ حج تمتع میں ایک ہدی (یعنی ایک بکرییا پھر اونٹ یا گائے کے ساتویں حصے) کی قربانی دینی پڑتی ہے، لیکن جس حاجی کو قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو، وہ کل دس روزے رکھے، تین ایامِ حج میں اور سات واپس گھر لوٹ کر، جبکہ ایام حج، جن میں روزے رکھنے ہیں، وہ ذوالحجہ کی (۹) تاریخ اور ایام تشریق ہیں۔ اس لیے ایسا حاجی ایام تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، امام مالک، امام احمد، امام اوزاعی اور امام اسحاق کی بھییہی رائے ہے۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کتاب الحج میں آئے گی۔