الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
فَضْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: اس معاملے میں رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 386
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اِن واضح احادیث کی روشنی میں پچھلے باب کی احادیث کی تاویل کی جائے گی، مزید کچھ روایات درج ذیل بھی ہیں:سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ((کَانَ یُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَیَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ الْمَعِیْنُ)) … نظر لگانے والے کو وضو کرنے کا حکم دیا جاتا، پھر اس پانی سے وہ آدمی غسل کرتا، جس کو نظر لگی ہوتی تھی۔ (ابوداود: ۳۸۸۰)
اسی طرح سیدنا سہل بن حنیف ؓکو سیدنا عامر بن ربیعہ ؓکی نظر لگ گئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عامر ؓسے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو اس کو برکت کی دعا کرنی چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو غسل کرنے کا حکم دیا، پس اس نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے، ٹانگوں کے کنارے اور ازار کا داخلی حصہ ایک برتن میں دھویا، پھر وہ پانی سیدنا سہل ؓکے سر اور پشت پر ڈالا گیا اور ان کے پچھلے حصے پر پیالے کو انڈیل دیا گیا اور وہ تندرست ہو گئے۔ (مسند احمد: ۳/ ۴۸۶، ۱۵۹۸۰)
اسی طرح سیدنا سہل بن حنیف ؓکو سیدنا عامر بن ربیعہ ؓکی نظر لگ گئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عامر ؓسے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو اس کو برکت کی دعا کرنی چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو غسل کرنے کا حکم دیا، پس اس نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے، ٹانگوں کے کنارے اور ازار کا داخلی حصہ ایک برتن میں دھویا، پھر وہ پانی سیدنا سہل ؓکے سر اور پشت پر ڈالا گیا اور ان کے پچھلے حصے پر پیالے کو انڈیل دیا گیا اور وہ تندرست ہو گئے۔ (مسند احمد: ۳/ ۴۸۶، ۱۵۹۸۰)