حدیث نمبر: 3856
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ فَقَالَ: ((لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، جبکہ اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے، تو کیا میں اس کی طرف سے قضائی دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری والدہ کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم نے اسے ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔

وضاحت:
فوائد: … ابن قیم کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد نذر کے روزے ہیں، لیکن صحیحین کی روایت عام ہے، اس لیے اس سے مراد ہر وہ روزہ ہے، جو میت کے ذمے ہو، وہ نذر کا ہویا رمضان کا۔ جیسا کہ خطابی نے کہا: اس حدیث میں میت کا وہ روزہ مراد ہے، جو اس پر فرض تھا، وہ نذر کی صورت میں ہو یا رمضان کے روزوں کی قضا دینے کی صورت میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3856
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2336»