حدیث نمبر: 3855
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِي عَنْهَا؟ قَالَ: فَقَالَ: ((أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دِينٌ أَمَا كُنْتِ تَقْضِينَهُ؟)) قَالَ: بَلَى، قَالَ: ((فَدِينُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری امی فوت ہو گئی ہے، جبکہ اس کے ذمہ میں ایک مہینہ کے روزے تھے، کیا اب میں اس کی طرف سے روزوں کی قضائی دے سکتی ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہاری والدہ پر قرضہ ہوتا تو کیا تم نے وہ ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض اس امر کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ اس خاتون پر نذر کے روزے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3855
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1148، وعلقه البخاري: 1953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1970»