الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَتَى يُفْطِرُ الْمُسَافِرُ إِذَا خَرَجَ وَمِقْدَارُ الْمَسَافَةِ الَّتِي تُبِيحُ لَهُ الْفِطْرَ باب: جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ قَرْيَةِ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ النَّاسُ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ أَرَاهُ، إِنْ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ۔ منصور کلبی کہتے ہیں: سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ ماہ رمضان میں اپنی بستی سے عقبہ بستی کے نواح میں جانے کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے بھی روزہ رکھنا ترک کر دیا اور ان کے ساتھ والے بعض لوگوں نے بھی، جبکہ بعض نے روزہ چھوڑنے کو پسند نہ کیا، جب وہ اپنی بستی میں واپس پہنچے تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج ایسی چیز دیکھی ہے کہ مجھے جس کو دیکھنے کی توقع نہ تھی، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے عمل سے اعراض کیا ہے۔ دراصل وہ یہ بات ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، پھر یہ دعا کرنے لگے: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔