حدیث نمبر: 3849
عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ قَرْيَةِ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ النَّاسُ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ أَرَاهُ، إِنْ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ منصور کلبی کہتے ہیں: سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ ماہ رمضان میں اپنی بستی سے عقبہ بستی کے نواح میں جانے کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے بھی روزہ رکھنا ترک کر دیا اور ان کے ساتھ والے بعض لوگوں نے بھی، جبکہ بعض نے روزہ چھوڑنے کو پسند نہ کیا، جب وہ اپنی بستی میں واپس پہنچے تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج ایسی چیز دیکھی ہے کہ مجھے جس کو دیکھنے کی توقع نہ تھی، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے عمل سے اعراض کیا ہے۔ دراصل وہ یہ بات ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، پھر یہ دعا کرنے لگے: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔

وضاحت:
فوائد: … ہم حدیث نمبر (۲۳۵۷)کے باب میں قصر کی مسافت پر سیر حاصل بحث کر آئے ہیں،یہ مسئلہ بھی اسی مسافت سے متعلقہ ہے، اس لیے قارئین کو اس بحث کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27773»