الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَتَى يُفْطِرُ الْمُسَافِرُ إِذَا خَرَجَ وَمِقْدَارُ الْمَسَافَةِ الَّتِي تُبِيحُ لَهُ الْفِطْرَ باب: جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 3848
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ السَّفِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں ابو بصرہ کے ساتھ ایک کشتی پر سوار ہوا، وہ اسکندریہ جا رہے تھے، … ۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث اور پچھلے باب کی حدیث (۳۸۴۶)کے فوائد میں مذکورہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ جب ایک آدمی طلوع فجر کے بعد کسی وقت سفر کا قصد رکھتا ہو تو وہ اس دن کا روزہ ترک کر سکتا ہے، یہ بات بالکل ایسے ہی ہے،جیسے روزے کی صلاحیت رکھنے والے ایک آدمی کے بارے میں ڈاکٹر حضرات نے یہ فیصلہ کر دیا ہو کہ فلاں دن اس شخص کا آپریشن کیا جائے گا، تو اس دن نہ وہ آدمی روزہ رکھے گا اور نہ کوئی اسے رکھنے دے گا۔