الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَنْ شَرَعَ فِي الصَّوْمِ ثُمَّ أَفْطَرَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ باب: جو آدمی روزہ تو رکھ لے، لیکن پھر اسی دن اس کو سفر کی وجہ سے توڑ دے، اس کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَهَرٍ مِنَ السَّمَاءِ، وَالنَّاسُ صِيَامٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ مُشَاةً وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ فَقَالَ: ((اشْرَبُوا أَيُّهَا النَّاسُ!))، قَالَ: فَأَبَوْا، قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَيْسَرُكُمْ، إِنِّي رَاكِبٌ))، فَأَبَوْا، قَالَ: فَثَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ فَنَزَلَ فَشَرِبَ وَشَرِبَ النَّاسُ وَمَا كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَشْرَبَ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سفر کے دوران) بارانی پانی کی ایک نہر پر پہنچے، گرمی سخت تھی اور لوگ روزے سے تھے اور پیدل سفر کر رہے تھے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی پی لو۔ لیکن لوگوں نے پانی نہ پیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تم میں سب سے زیادہ آسانی والا ہوں، میں تو سوار ہوں۔ لیکن لوگ (روزہ نہ توڑنے پر) اڑے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ران موڑی، نیچے اترے اورپانی پی لیا اور (یہ منظر دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ پانی پینے کا نہیں تھا۔
(۲)جیسے روزے کے دوران بیمار ہو جانے والے کو روزہ چھوڑنے کا اختیار ہوتا ہے، اسی طرح کا معاملہ سفر شروع کرنے والے کا ہے۔ اب اس میں یہ فرق کرنا درست نہیں ہے کہ مرض کا روزے دار کے اختیار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، جبکہ سفر تو اختیاری چیز ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ سفر اختیاری ہی ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ شریعت نے مرض اور سفر کو عذر قرار دیا ہے اور اختیار و اجبار کا کوئی فرق نہیں کیا۔
(۳)محمد بن کعب کہتے ہیں: اَتَیْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فِیْ رَمَضَانَ وَھُوَ یُرِیْدُ سَفَرًا، وَقَدْ رُحِلَتْ لَہٗرَاحِلَتُہٗ،وَلَبِسَثِیَابَ السَّفَرِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَاَکَلَ۔ فَقُلْتُ لَہٗ: سُنَّۃٌ؟ قَالَ: سُنَّۃٌ، ثُمَّ رَکِبَ۔ میں ماہِ رمضان میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، ان کی سواری تیاری کی گئی تھی اور وہ سفر کے کپڑے پہن چکے تھے، پس انھوں نے کھانا منگوا کر کھایا۔ میں نے پوچھا: کیایہ سنت ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سنت ہے، پھر وہ سوار ہو کر سفر کے لیے نکل پڑے۔(ترمذی: ۷۹۹)
(۴) جعفر بن جبر کہتے ہیں: میں صحابی رسول سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ماہِ رمضان میں وہ کشتی میں سوار ہو کر فسطاط سے نکلے، ابھی تک انھوں نے اس شہر کے گھروں سے تجاوز نہیں کیا تھا کہ انھوںنے دسترخوان منگوایا اور مجھے کہا: قریب آ جاؤ (اور کھانا کھاؤ)۔ میںنے کہا: کیا آپ کو گھر نظر نہیں آ رہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کرنا چاہتے ہو۔ پس انھوں نے کھانا کھا لیا۔ (ابوداود: ۲۴۱۲) اگلے باب کی پہلی حدیثیہی ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مسافر کو روزہ توڑنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، لیکنیہ قول مرجوح ہے۔