الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَنْ شَرَعَ فِي الصَّوْمِ ثُمَّ أَفْطَرَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ باب: جو آدمی روزہ تو رکھ لے، لیکن پھر اسی دن اس کو سفر کی وجہ سے توڑ دے، اس کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: قَوْلُهُ "إِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ" مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: كَذَا فِي الْحَدِيثِ۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔(قانون یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔کسی نے سفیان سے پوچھا: یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری کے ہیں یا سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے؟ انہوں نے کہا: اسی طرح اس حدیث میں ہے۔