الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَنْ شَرَعَ فِي الصَّوْمِ ثُمَّ أَفْطَرَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ باب: جو آدمی روزہ تو رکھ لے، لیکن پھر اسی دن اس کو سفر کی وجہ سے توڑ دے، اس کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ وَصَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِمَاءٍ فِي قَعْبٍ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَشَرِبَ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، يُعْلِمُهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور دوسرے مسلمانوں نے روزہ رکھا ہو اتھا،جب کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکڑی کے پیالے میں پانی منگوایا،جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی پیا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہے تھے، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو روزہ توڑ دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا۔