الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
فَصْلٌ مِنْهُ فِي حُجَّةِ مَنْ رَأَى أَفْضَلِيَّةَ الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
حدیث نمبر: 3839
عَنْ أَبِي طُعْمَةَ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَقْوَى عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوطعمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں( تو کیا میں روزہ رکھ لیا کروں)؟سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا، اسے عرفہ کے پہاڑوں جتنا گناہ ملتا ہے۔