الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ جَوَازِ الْفِطْرِ وَالصَّوْمِ فِي السَّفَرِ باب: روزہ چھوڑنے کو جائز کر دینے والے امور اور قضاء کے احکام کا بیان سفر میں روزہ چھوڑنے اور روزہ رکھنے کے جواز کا بیان
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ، وَقَالَ: ((إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوَّكُمْ فَتَقَوَّوْا))، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال دورانِ سفر روزہ رکھا،لیکن صحابہ کو روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہو، لہذا (روزہ ترک کر کے) قوت حاصل کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ رکھنے کی بنیاد پر لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدید مقام پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا۔ مجھے بیان کرنے والے نے یہ بھی کہا: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔