الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ جَوَازِ الْفِطْرِ وَالصَّوْمِ فِي السَّفَرِ باب: روزہ چھوڑنے کو جائز کر دینے والے امور اور قضاء کے احکام کا بیان سفر میں روزہ چھوڑنے اور روزہ رکھنے کے جواز کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، وَنَحْنُ صِيَامٌ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَكَانَتْ رُخْصَةً، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا، فَكَانَتْ عَزِيمَةً فَأَفْطَرْنَا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ))۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ کی طرف سفر کیا، جبکہ ہم روزہ کی حالت میں تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو، تمہارے لیے زیادہ طاقت روزہ نہ رکھنے میں ہے۔ چونکہ یہ رخصت تھی، اس لیے ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا، اس کے بعد جب ہم نے ایک دوسرے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صبح کو دشمنوں پر حملہ کرنے والے ہو اور تمہارے لیے زیادہ قوت روزہ نہ رکھنے میں ہے، لہذا تم روزہ نہ رکھو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لازمی حکم تھا اس لیے ہم سب نے روزہ رکھنا ترک کر دیا، بہرحال میں نے دیکھا کہ اس کے بعد بھی ہم صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔