حدیث نمبر: 3828
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، يَرَوْنَ أَنَّهُ يَعْنِي أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ، وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزہ رکھ لیتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، روزہ دار، روزہ نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والے، روزہ دار پر کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا تھا، ان کا یہ خیال تھا کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ روزہ رکھ لے تو یہ اچھا ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہو اور وہ روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3828
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11099»