الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ كَفَّارَةِ مَنْ جَامَعَ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ باب: رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
حدیث نمبر: 3823
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری روایات میں ان تین چیزوں کو ترتیب کے ساتھ ذکر کیا گیا، اس حدیث ِ میں ’’اَوْ‘‘ کا لفظ تقسیم کے لیے ہے، نہ کہ تخییر کے لیے۔
مطلبیہ ہے کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ غلام یا لونڈی آزاد کر یا دو ماہ کے روزے رکھ یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ آپ نے اسے فرمایا ایک گردن آزاد کر۔ جب اس نے کہا میرے پاس اس کی طاقت نہیں تو آپ نے فرمایا، دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس نے اس کی طاقت بھی نہ ہونے کی بات کی تو آپ نے فرمایا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا گویا رمضان کے روزے کی حالت میں کوئی جماعت کر لے تو وہ ایک گردن آزاد کرے، اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ یہ کفارہ ہیں کہ ان تین کاموں میں سے جو چاہے ایک کام کر لے۔ (عبداللہ رفیق)
مطلبیہ ہے کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ غلام یا لونڈی آزاد کر یا دو ماہ کے روزے رکھ یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ آپ نے اسے فرمایا ایک گردن آزاد کر۔ جب اس نے کہا میرے پاس اس کی طاقت نہیں تو آپ نے فرمایا، دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس نے اس کی طاقت بھی نہ ہونے کی بات کی تو آپ نے فرمایا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا گویا رمضان کے روزے کی حالت میں کوئی جماعت کر لے تو وہ ایک گردن آزاد کرے، اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ یہ کفارہ ہیں کہ ان تین کاموں میں سے جو چاہے ایک کام کر لے۔ (عبداللہ رفیق)