الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ كَفَّارَةِ مَنْ جَامَعَ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ باب: رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ رَجُلٌ يَنْتِفُ شَعْرَهُ وَيَدْعُو وَيْلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا لَكَ؟))، قَالَ: قَدْ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: ((أَعْتِقْ رَقَبَةً))، قَالَ: لَا أَجِدُهَا، قَالَ: ((صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ))، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: ((أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا))، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ، فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: ((خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ سِتِّينَ مِسْكِينًا))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، قَالَ: ((كُلْهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ))۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی اپنے بالوں کو نوچتا ہوا اور اپنی ہلاکت کی خبر دیتا ہوا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے ہواکیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہِ رمضان میں(روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ اس نے کہا: مجھ میں اتنی طاقت بھی نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا: میں تو اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا، اس میں پندرہ صاع کھجور تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: یہ لے جاؤ اور ساٹھ مساکین کو کھلا دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینہ منورہ کے ان دو حرّوں (سیاہ پتھروں والے میدان) میں کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اور تمہارا اہل خانہ ہی کھا لے۔