الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
(الْفَصْلُ الثَّانِي فِي مُوَاصَلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ حِينَ أَبَوْا أَنْ باب: صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3816
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ مُدَّ لِيَ الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان میں وصال کیا، پس صحابہ نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مہینہ مزید لمبا ہوتا تو میں وصال کو مزید لمبا کرتا، تاکہ غلو کرنے والے متشدِّد لوگ اپنے غلو اور تشدّدسے باز آجاتے، میری صورتحال تو یہ ہے کہ مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے۔