الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ النَّهْيُ عَنْهُ وَإِبَاحَتُهُ لِلنَّبِيِّ خُصُوصِيَّةً لَهُ باب: وصال سے منع کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُوَاصِلُوا))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي))، قَالَ: فَلَمْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، فَوَاصَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ثُمَّ رَأَوُا الْهِلَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ)) كَالْمُنَكِّلِ بِهِمْ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وصال نہ کرو۔ لیکن صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو وصال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں،میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ بہرحال لوگ تو وصال سے باز نہ آئے۔ (جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ مسلسل دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کیا، اس کے بعد چاند نظر آگیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر چاند نظر نہ آتا تو میں مزید وصال کرتا۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ان کے لیے عبرتناک سزا بنا رہے تھے۔