حدیث نمبر: 3815
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُوَاصِلُوا))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي))، قَالَ: فَلَمْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، فَوَاصَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ثُمَّ رَأَوُا الْهِلَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ)) كَالْمُنَكِّلِ بِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وصال نہ کرو۔ لیکن صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو وصال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں،میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ بہرحال لوگ تو وصال سے باز نہ آئے۔ (جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ مسلسل دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کیا، اس کے بعد چاند نظر آگیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر چاند نظر نہ آتا تو میں مزید وصال کرتا۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ان کے لیے عبرتناک سزا بنا رہے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سوال یہ ہے کہ اس حدیث سے وصال کے جواز کا استدلال کیا جائے یا عدم جواز کا؟ اگر اس نقطے کو سامنے رکھا جائے کہ اگر یہاں نہی حرمت کے لیے ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو وصال پر برقرار نہ رکھتے تو جواز کا استدلال کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس اعتبار سے غور کیا جائے کہ جس چیز کی اجازت اس لیے دی گئی ہے، تاکہ اس کو عبرتناک سزا بنا دیا جائے تو عدم جواز کا مفہوم کشید کیا جائے گا۔ زیادہ رجحان پہلے خیال کی طرف جاتا ہے، جیسا کہ ایک صحابی کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی اور وصال سے منع کیا، اپنے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے اور ان کو حرام قرار نہیں دیا۔ (ابوداود: ۲۳۷۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3815
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1965، 6851، 7299، ومسلم: 1103، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7773»