الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ النَّهْيُ عَنْهُ وَإِبَاحَتُهُ لِلنَّبِيِّ خُصُوصِيَّةً لَهُ باب: وصال سے منع کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3814
عَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرٍ، قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمَيْنِ مُوَاصَلَةً فَمَنَعَنِي بَشِيرٌ وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، وَقَالَ: ((يَفْعَلُ ذَلِكَ النَّصَارَى وَلَكِنْ صُومُوا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ فَأَفْطِرُوا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :میں نے دو دن کا بلا افطار متواتر روزہ رکھنا چاہا، لیکن میرے شوہر بشیر نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: اس طرح تو عیسائی کرتے ہیں، تم اسی طرح روزے رکھا کرو، جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، یعنی رات تک روزہ مکمل کیا کرو، جب رات ہو جائے تو افطاری کر لیا کرو۔