الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ النَّهْيُ عَنْهُ وَإِبَاحَتُهُ لِلنَّبِيِّ خُصُوصِيَّةً لَهُ باب: وصال سے منع کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3811
عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَنَا شَاهِدَةٌ عَنْ وَصْلِ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهَا: أَتَعْمَلِينَ كَعَمَلِهِ؟ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَكَانَ عَمَلُهُ نَافِلَةً لَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلا افطار کے تسلسل کے ساتھ روزے رکھنے کے بارے میں دریافت کیا، میں بھی وہاں موجود تھی، تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح کا عمل کر لو گی؟ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل تو نفلی ہوتا تھا۔