الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ تَحْذِيرِ الصَّائِمِ مِنَ اللُّغْوِ وَالرَّفَثِ وَالْغِيبَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ مُبْطِلٌ لِثَوَابِ الصَّوْمِ باب: روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3807
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدٌ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِصِيَامِ يَوْمٍ فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْضَ النَّهَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ فُلَانَةَ وَفُلَانَةَ بَلَغَهُمَا الْجَهْدُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو ایک دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا، دن کے کسی حصہ میں ایک آدمی نے آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں فلاں عورتیں (روزے کی وجہ سے) بڑی مشقت سے دو چار ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا، … ۔
وضاحت:
فوائد: … فحش گوئی، شور شرابا، گالی گلوچ، سب و شتم، لعن طعن، چغلی و غیبت، لڑائی جھگڑے، کذب بیانی، جہالت والے امور، بلاشبہ ان برے کاموں سے روزہ باطل تو نہیں ہوتا ہے، لیکن اس کا اجر ضائع ہو جاتا ہے اور ممکن ہے کہ سارا اجر ضائع ہوجائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۸۰۳) سے معلوم ہوتا ہے۔