الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ تَحْذِيرِ الصَّائِمِ مِنَ اللُّغْوِ وَالرَّفَثِ وَالْغِيبَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ مُبْطِلٌ لِثَوَابِ الصَّوْمِ باب: روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3806
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ثَنَا سَعْدٌ أَوْ عُبَيْدٌ، (عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثَ الَّذِي يَشُكُّ) مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِصِيَامٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْضَ النَّهَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فُلَانًا وَفُلَانَةَ قَدْ بَلَغَهُمَا الْجَهْدُ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ وَابْنِ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا سعد یا سیدنا عبید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا، ایک آدمی دن کے دوران آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں مرد اور عورت روزہ کی وجہ سے بڑی مشقت میں ہیں۔ اس سے آگے سلیمان والی حدیث کا مفہوم بیان کیا۔
وضاحت:
فوائد: … پچھلی روایت میں شک کے بغیر عبید رضی اللہ عنہ سے روایت مروی ہے اور ظاہر ہے کہ شک کے بغیر والی روایت ہی زیادہ اہمیت والی ہوتی ہے۔