الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ تَحْذِيرِ الصَّائِمِ مِنَ اللُّغْوِ وَالرَّفَثِ وَالْغِيبَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ مُبْطِلٌ لِثَوَابِ الصَّوْمِ باب: روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا وَأَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ هَاتَيْنِ الْامْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا وَأَنَّهُمَا قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنَ الْعَطَشِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ، ثُمَّ عَادَ، وَأُرَاهُ قَالَ: بِالْهَاجِرَةِ؟ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنَّهُمَا وَاللَّهِ! قَدْ مَاتَتَا أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا، قَالَ: ((ادْعُهُمَا))، قَالَ: فَجَاءَتَا، قَالَ: فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ، فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا: ((قِيئِي))، فَقَاءَتْ قَيْحًا أَوْ دَمًا وَصَدِيدًا وَلَحْمًا، حَتَّى قَاءَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى: ((قِيئِي))، فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ حَتَّى مَلَأَتِ الْقَدَحَ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمَا، جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَتَا يَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ))۔ مولائے رسول سیدنا عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور ایک آدمی نے ان کے بارے میں یہ بتلایا: اے اللہ کے رسول! یہاں دو عورتیں ہیں، انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہے لیکن وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے مرنے کے قریب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے منہ موڑ لیایا خاموش ہو رہے۔ اس نے اپنی بات دہرائی، اور میرا خیال ہے کہ وہ دوپہر کی شدت کی گرمی کا وقت تھا۔ اس نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ کی قسم! وہ دونوں مر چکی ہیں یا مرنے کے قریب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ۔ وہ دونوں آگئیں اور ایک پیالہ بھی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاتون سے فرمایا: اس میں قے کرو۔ اس نے خون، پیپ اور گوشت ملی قے کی، آدھا پیالہ بھر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری عورت سے فرمایا: تم بھی قے کرو۔ اس نے بھی پیپ، خون اور تازہ گوشت کے لوتھڑوں وغیرہ کی قے کی، اب کی بار پیالہ بھر گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے، انہوں نے اسے تو چھوڑ کر روزہ رکھ لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان پر حرام کیا ہے، اس کے ساتھ انہوں نے روزے کو ضائع کر دیا ہے اور وہ اس طرح کہ یہ دونوں بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھاتی رہیں یعنی غیبت کرتی رہیں۔