الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ تَحْذِيرِ الصَّائِمِ مِنَ اللُّغْوِ وَالرَّفَثِ وَالْغِيبَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ مُبْطِلٌ لِثَوَابِ الصَّوْمِ باب: روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3803
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت سے روزے دار ایسے ہیں کہ جن کو روزے کے عوض صرف بھوک پیاس نصیب ہوتی ہے اور قیام کرنے والے بھی کئی لوگ ایسے ہیں، جن کو قیام کے عوض صرف بیداری ملتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی وہ مشقت اٹھانے کے باوجود اجرو ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو کوئی مسلمان عبادت والے امور سر انجام دینا چاہے تو وہ اس کے تمام تقاضے پورا کرنے کی کوشش کرے، وگرنہ وہ ایسا بیچارہ بن جائے گا کہ جو بڑا صبر کر کے دن کو روزہ رکھتا ہے، رات کو قیام کرتا ہے، لیکن تقسیم اجر کے وقت اس کو خالی ہاتھ واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔ العیاذ باللہ۔