الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ باب: جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنْبٌ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ))، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّا لَسْنَا مِثْلَكَ، فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَعْلَمُكُمْ بِمَا أَتَّقِي))۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں اور مجھے نماز فجر پا لیتی ہے، جبکہ میرا روزہ رکھنے کا بھی ارادہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (میرے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے کہ) میں جنبی ہوتا ہوں اور مجھے نماز پا لیتی ہے، جبکہ روزہ رکھنے کا ارادہ بھی ہوتا ہے، تو میں غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں۔ اس بندے نے کہا: ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آ گئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ مجھے کن باتوں سے بچنا چاہیے۔