الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ باب: جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ: بَانَ يَعْلَى بْنُ مُنَبِّهٍ فِي رَمَضَانَ فَأَصْبَحَ هُوَ جُنُبٌ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: أَفْطِرْ، قَالَ: أَفَلَا أَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ وَأُجْزِئُهُ مِنْ يَوْمٍ آخَرَ، قَالَ: أَفْطِرْ، فَأَتَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ فَأَرْسَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: قَدْ كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فِينَا جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا فَرَجَعَ إِلَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: الْقِ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَقَالَ: جَارٌ جَارٌ، فَقَالَ: أَعْزِمُ عَلَيْكَ لِتَلْقِ بِهِ، فَلَقِيَهُ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنْبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيتُ رَجَاءً فَقُلْتُ: حَدِيثِ يَعْلَى عَلَى مَنْ حَدَّثَكَهُ، فَقَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَهُ۔ رجاء بن حیوہ کہتے ہیں کہ یعلیٰ بن منبہ نے رمضان میں شادی کی، اس طرح اس کی جنابت والی حالت میں ہی صبح ہو گئی، پس وہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے یہ سوال کیا، انہوں نے جواباً کہا: روزہ افطار کردو۔ یعلیٰ نے کہا: کیا اس طرح نہ ہو جائے کہ میں آج کا روزہ بھی مکمل کر لوں اور اس کے عوض ایک اور روزہ بھی رکھ لوں۔ انہوں نے کہا: افطار کر دے۔ یعلی، مروان کے پاس پہنچ گیا اور یہ واقعہ ذکر کیا، مروان نے ابوبکر بن عبدالرحمن کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، پس انھوں نے سیدہ سے سوال کیا اور انہوں نے یہ جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روزہ بھی ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جنابت احتلام کی وجہ سے نہیں ہوتی تھی، ابوبکر بن عبدالرحمن نے واپس جا کر مروان کو یہ حدیث بیان کی۔ اس نے کہا: جا کر یہ بات سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتاؤ۔ ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: وہ تو میرے ہمسائے ہیں، میرے ہمسائے ہیں(اس لیے میں ان کو یہ بات نہیں بتلا سکوں گا)۔ لیکن مروان نے کہا: میں تمہیں حتمی حکم دیتا ہوں کہ جا کر ان کو ملو اور (انہیں یہ حدیث بیان کرو)، پس وہ گیا اور ان سے جا ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کر دی، سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے خود تو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنی تھی، البتہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلائی تھی۔ابن عوف کہتے ہیں: اس کے بعد جب میری ملاقات رجاء سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ سے یعلیٰ والی حدیث کس نے بیان کی تھی؟ انہوں نے کہا: خود یعلی نے مجھے بیان کی تھی۔