الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ باب: جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
حدیث نمبر: 3791
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا نُودِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ وَأَحَدُكُمْ جُنُبٌ فَلَا يَصُمْ يَوْمَئِذٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب صبح کی اذان ہو جائے اور تم میں سے کوئی جنبی ہو تو وہ اس دن کا روزہ نہ رکھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی دیگر احادیث سے پتہ چلے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں روزہ رکھ کر بعد میں غسل کر لیا کرتے تھے، تو پھر اس حدیث کا کیا معنی ہوا؟ امام خطابی کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو منسوخ سمجھا جائے، دراصل یہ حکم ابتدائے اسلام میں اس وقت تھا، جب رات کو سونے کے بعد کھانے پینے کی طرح جماع حرام ہو جاتا تھا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے طلوعِ فجر تک جماع کو جائز قرار دیا تو جنابت کی حالت میں روزہ رکھنا بھی جائز ہو گیا، اس لیے اس حدیث کے اس حصے کہ ’’جو جنابت کی حالت میں صبح کرے، وہ روزہ نہ رکھے‘‘ کییہ تاویل کی جائے گی کہ جو آدمی سونے کے بعد روزے کی حالت میں جماع کر لے، تو اس دن کا روزہ اسے کفایت نہیں کرے گا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے شروع شروع میں سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی روایت کے مطابق فتوی دیا تھا، دراصل اس وقت ان کو نسخ کا علم نہیں تھا، پھر جب ان کو سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کا پتہ چلا تو انھوں نے پہلے قول سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ صحیح مسلم (۱۱۰۹) سے معلوم ہوتا ہے، اسی طرح ابن ابی شیبہ (۳/ ۸۱) میں ہے کہ سعید بن مسیب نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس فتوے سے رجوع کر لیا تھا کہ جو آدمی اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔