الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلًا باب: بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 3790
عَنْ أَسْمَاءَ (بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: وَبُدٌّ مِنْ ذَاكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ماہِ رمضان میں ایک دن بادل چھاگئے، (ہم نے سمجھا کہ سورج غروب ہو گیا) اس لیے ہم نے روزہ افطار کر لیا، لیکن بعد میں سورج نظر آنے لگ گیا۔ میں (ابواسامہ) نے ہشام سے کہا: تو پھر لوگوں کو اس روزہ کی قضاء کا حکم دیا گیا تھا؟ انھوں نے کہا: کیااس کے بغیر بھی کوئی چارہ ہے؟
وضاحت:
فوائد: … حدیث کا آخری جملہ ’’کیا اس کے بغیر بھی کوئی چارہ ہے؟‘‘ ہشام بن عروہ کا اپنا استدلال ہے، وگرنہ ایسی صورتحال میں ایسی خطا کرنے والوں کوچاہیے کہ وہ فوراً اپنی خطا سے باز آ کر روزہ مکمل کریں، کیونکہیہ بھی بھولنے کی ہی ایک قسم ہے، ہم نے حدیث نمبر (۳۷۰۵یا۳۷۰۸) میں جس مسئلے پر بحث کی ہے، اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگرکسی آدمی کو سحری کا وقت گزر جانے کے بعد دن میں کسی وقت رمضان کا چاند نظر آنے کی خبر ملتی ہے تو وہ اسی وقت سے روزہ کی نیت کر لے گا اور اس پر کوئی قضائی نہیں ہو گی، اس حدیث میں مذکورہ مسئلہ بھی اسی قسم کا ہے۔