الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلًا باب: بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ دِينَارٍ عَنْ مَوْلَاتِهَا أُمِّ إِسْحَاقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَأَكَلَتْ مَعَهُ وَمَعَهُ ذُو الْيَدَيْنِ فَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرْقًا، فَقَالَ: ((يَا أُمَّ إِسْحَاقَ! أَصِيبِي مِنْ هَذَا))، فَذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَبَرَدَتْ يَدِي لَا أُقَدِّمُهَا وَلَا أُؤَخِّرُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا لَكِ؟))، قَالَتْ: كُنْتُ صَائِمَةً فَنَسِيتُ فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: الْآنَ بَعْدَ مَا شَبِعْتِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتِمِّي صَوْمَكِ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكِ))۔ ام حکیم بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ثرید کا پیالہ لایا گیا، میں نے اور سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ کھانا کھایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گوشت والی ایک ہڈی دی اور فرمایا: ام اسحاق! یہ بھی کھا لو۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ میرا تو روزہ تھا۔ میرا ہاتھ تو وہیں رک گیا، میں اسے آگے کر سکتی تھی نہ پیچھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: میرا تو روزہ تھا اور میں بھول گئی تھی۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اب یاد آیا تجھے، سیر ہونے کے بعد۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا روزہ پورا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ رزق تم کو مہیا کیا ہے۔