الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ باب: روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَ عَطَاءً: أَنَّهُ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ))، فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ، فَارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقُولِي لَهُ، فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ، فَقَالَ: ((أَنَا أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِ اللَّهِ))۔ عطاء بن یسارکہتے ہیں: ایک انصاری آدمی نے مجھے بیان کیا کہ اس نے عہد رسالت میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا تھا، جب اس کی بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کا رسول بھی ایسے کر لیتا ہے۔ جب اس کی بیوی نے اسے جا کر بتایا تو اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو بعض چیزوں کی (خصوصی طور پر) رخصت دی جاتی ہے،تو جا اور دوبارہ پوچھ۔ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹی اور جا کر کہا: میرا شوہر کہتاہے کہ آپ کو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو بعض امور میں خصوصی اجازت دے دی جاتی ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں۔