الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ باب: روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
حدیث نمبر: 3786
عَنْ أَيُّوبَ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنَ الرُّؤُوسِ وَهُوَ صَائِمٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو سدوس کے ایک شیخ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روزے دار کے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں سروں (والے اعضاء) کو استعمال کر لیتے تھے۔