الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ باب: روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
حدیث نمبر: 3782
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخٍ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ، فَمَا تَرَيْنَ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں کہ ایک خاتون نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کا شوہر اس کا بوسہ لے لیتا ہے، جب کہ وہ دونوں روزے دار ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی روزے کی حالت میں ہوتے اور میں بھی روزے دار ہوتی۔