الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ باب: روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ فَإِنْ قَالَتْ: لَا، فَقُلْ لَهَا إِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: فَسَأَلْتُهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: لَا، قُلْتُ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ: لَعَلَّهُ إِيَّاهَا، كَانَ لَا يَتَمَالَكَ عَنْهَا حُبًّا، أَمَّا إِيَّايَ فَلَا۔ ابو قیس کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہ طرف بھیجا تاکہ میں ان سے سوال کروں کہ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان کو یہ کہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ تو لوگوں کو یہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پس میں گیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ تو لوگوں کو یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لے لیتے ہوں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی، رہا مسئلہ میرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں میرا بوسہ نہیں لیا تھا۔