الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ باب: روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
حدیث نمبر: 3778
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَظَلُّ صَائِمًا ثُمَّ يُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھتے اور پھر افطار کرنے تک جس قدر چاہتے میرے چہرے کے بوسے لیتے۔