الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ باب: روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ: خَرَجَ عَلْقَمَةُ وَأَصْحَابُهُ حُجَّاجًا فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ: الصَّائِمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، قَدْ قَامَ سَنَتَيْنِ وَصَامَهُمَا هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي فَأَضْرِبَكَ بِهَا قَالَ: فَكُفُّوا حَتَّى تَأْتُوا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَدَخَلُوا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ، قَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ! سَلْهَا، قَالَ: لَا أَرْفُثُ عِنْدَهَا الْيَوْمَ، فَسَأَلُوهَا فَقَالَتْ: كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ۔ علقمہ اور ان کے ساتھی حج کے لیے روانہ ہوئے، کسی نے کہا:روزے دار (اپنی بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے اور اس کے ساتھ لیٹ بھی سکتا ہے۔ ان میں سے ایک آدمی دو سال کے قیام اور روزوں کا اہتمام کر چکا تھا، اس نے یہ سن کر کہا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنی کمان لے کر تمہیں دے ماروں۔ علقمہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچنے تک اس مسئلہ سے رک جاؤ۔ بالآخر وہ سارے لوگ سیدہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے تھے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سب لوگوں سے زیادہ اپنی حاجت پر قابو پانے والے تھے۔ساتھیوں نے کہا: ابوشبل! اب سیدہ رضی اللہ عنہا سے خود پوچھ لو۔ لیکن اس نے کہا: میں آج ان کے ہاں اس قسم کی گفتگو نہیں کروں گا۔ پھر انھوں نے سوال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے۔