الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ باب: روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟)) قُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَفِيمَ))۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن مجھے راحت اور نشاط محسوس ہوا، سو میں نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، جبکہ میں روزے کی حالت میں تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آج میں ایک بہت بڑا کام کر بیٹھا ہوں اور وہ یہ کہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ میں نے کہا:اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو (پھر اس بوسے کے بارے میں) کیا پوچھتے کیا ہو؟ یعنی بوسہ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔