حدیث نمبر: 3773
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟)) قُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَفِيمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن مجھے راحت اور نشاط محسوس ہوا، سو میں نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، جبکہ میں روزے کی حالت میں تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آج میں ایک بہت بڑا کام کر بیٹھا ہوں اور وہ یہ کہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ میں نے کہا:اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو (پھر اس بوسے کے بارے میں) کیا پوچھتے کیا ہو؟ یعنی بوسہ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی بھی مشروب ہو، اس کو نوش کرنے کے لیے اسے منہ میں ڈالا جاتا ہے، گویا منہ میں پانی ڈالنا پانی پینے کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن کلی کے لیے منہ میں یہی پانی ڈالنے سے کچھ نہیں ہوتا، یہی معاملہ بیوی کا بوسہ لینے کے حکم ہے، کہ یہ جماع کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن صرف بوسہ لینے سے روزہ متأثر نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3773
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 138»