الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ باب: روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ وَأَدْرَكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانُوا يَنْهَوْنِي عَنِ الْقُبْلَةِ تَخَوُّفًا أَنْ أَتَقَرَّبَ لِأَكْثَرَ مِنْهَا، ثُمَّ الْمُسْلِمُونَ الْيَوْمَ يَنْهَوْنَ عَنْهَا وَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ مِنْ حِفْظِ اللَّهِ مَا لَيْسَ لِأَحَدٍ۔ سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری رضی اللہ عنہ ، جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے بہت سے صحابہ کو پایا تھا، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:صحابہ کرام اس اندیشہ کی بناء پر مجھے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے سے منع کیا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے اگلی چیز کی طرف تجاوز کر جاؤں اور آج کے مسلمان (تابعین) بھی اس سے (مطلق طور پر) منع کرتے ہیں اور (بطورِ دلیل) یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی، وہ کسی دوسرے کے لیے تو نہیں ہے۔