الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ باب: روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ شَابٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: ((لَا))، فَجَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ: أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ عَلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ))۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،ایک نوجوان نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھا آدمی آیااور اس نے بھی یہی سوال کیا کہ وہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ جواب سن کر ہم نے (ازراہِ تعجب) ایک دوسرے کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم نے ایک دوسرے کی طرف کیوں دیکھا ہے،بات یہ ہے کہ بوڑھا آدمی اپنے اوپر کنٹرول کر سکتا ہے۔