الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ جَوَازِ السِّوَاكِ وَالْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَرِّ لِلصَّائِمِ باب: روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا، إِمَّا مِنَ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنَ الْعَطَشِ، وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ، زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا کہ سقیا مقام پر آپ کے سر پر گرمی یا پیاس کی وجہ سے پانی ڈالا جا رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے دار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ قائم رکھا، یہاں تک کہ کدید مقام تک پہنچ گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور روزہ افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا،یہ فتح مکہ (کے سفر کے دوران کا) واقعہ ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:مجھے بیان کرنے والے نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈال رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔