الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ باب: روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان¤¤ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔¤¤روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
حدیث نمبر: 3748
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ بِالْبَقِيعِ لِثَمَانِيَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي فَقَالَ: ((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ الْمَحْجُومُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو بقیع مقام پر سینگی لگوا رہا تھا، یہ اٹھارہ رمضان کا واقعہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ بھی پکڑا ہوا تھا، (اسے دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ افطار کر دیا ہے۔