الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
فَصْلٌ مِنْهُ فِي مِقْدَارِ مَا بَيْنَ الْفَرَاغِ مِنَ السَّحُورِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ باب: سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 3746
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُورِهِمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سُحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ رَجُلٌ خَمْسِينَ آيَةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کی، پھر جب وہ سحری سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان کا سحری سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا پچاس آیات پڑھ لینے کے برابر وقفہ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سحری سے فراغت اور نمازِ فجر کے آغاز کے درمیان پچاس آیتوں کے برابر وقفہ تھا، تقریبا (۱۲، ۱۳) منٹوں میں اتنی تلاوت کی جا سکتی ہے، دوسری نصوص کی روشنی میں سحری اور نماز کے اوقات معین ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی اذان اور جماعت میں تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا اور یہ اس وقت ممکن ہے جب لوگ اس نماز کے وقت سے پہلے بیدار ہو چکے ہوں اور اسی مقصد کے لیے پہلی اذان دی جاتی تھی۔