الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
فَصْلٌ مِنْهُ فِي صِفَةِ الْفَجْرِ الصَّادِقِ وَالْفَجْرِ الْكَاذِبِ وَمَا جَاءَ فِي أَذَانِ بِلَالٍ وَابْنِ أُمِّ باب: صبح صادق اور کاذب کی کیفیت اور سیدنا بلال اور سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کا بیان
حدیث نمبر: 3743
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ))، قَالَتْ: فَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ سیدہ کہتی ہیں: میرے علم کے مطابق (ان دو اذانوں میں اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ) ایک اذان کہہ کر اترتا تھا تو دوسرا اذان کہنے کے لیے چڑھ جاتا تھا۔