الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ وَقْتِ السَّحُورِ وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ باب: سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3739
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ، وَلَكِنِ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفُقِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اور صبح کاذب تم کو سحری کھانے سے نہ روکے،ہاں جب افق میں پھیلنے والی روشنی یعنی صبح صادق ہو جائے (تو کھانے سے رک جاؤ)۔
وضاحت:
فوائد: … کیونکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے، جو طلوع فجر سے کچھ دیر پہلے رات کو دی جاتی ہے۔ جب روشنی بھیڑیے کی دم کی طرح مشرقی افق میں بلند ہوتی ہے تو اسے فجر کاذب کہتے ہیں