الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ وَقْتِ السَّحُورِ وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ باب: سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3734
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ: أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عاصم نے کہا: میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی تھی؟ انہوں نے کہا: بس دن ہو چکا تھا، البتہ سورج طلوع نہ ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کی سندوں میں کچھ کلام ہے، بہرحال ان کے ظاہری مفہوم کا ادراک نہیں کیا جا رہا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ممکن ہے کہ سحری کے آخری وقت کھانے کو مبالغہ اس انداز سے بیان کر دیا ہو کہ بس سمجھو کہ سورج ہی چڑھ چکا تھا جبکہ حقیقت میں سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
ممکن ہے کہ سحری کے آخری وقت کھانے کو مبالغہ اس انداز سے بیان کر دیا ہو کہ بس سمجھو کہ سورج ہی چڑھ چکا تھا جبکہ حقیقت میں سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ (عبداللہ رفیق)