الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ وَقْتِ السَّحُورِ وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ باب: سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ (الطَّائِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، قَالَ: ((صَلِّ كَذَا وَكَذَا وَصُمْ، فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَكُلْ وَاشْرَبْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، وَصُمْ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ))، فَأَخَذْتُ خَيْطَيْنِ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ وَأَبْيَضَ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ فِيهِمَا فَلَا يَتَبَيَّنُ لِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ: ((يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ))۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نماز اور روزہ کی تعلیم دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلاں فلاں نماز پڑھا کرو اور (اس طرح) روزے رکھا کرو، جب سورج غروب ہو جائے تو (ساری رات) کھاپی سکتے ہو، یہاں تک کہ سفید دھاگہ، سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے اور (رمضان کے) پورے تیس روزے رکھا کرو، الّا یہ کہ چاند اس سے پہلے نظرآجائے۔ پس میں نے ایک سیاہ اور ایک سفید دھاگہ لیا اور(سحری کے وقت) ان کی طرف دیکھنے لگا، لیکن وہ میرے لیے واضح نہیں ہو رہے تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر مسکرا پڑے اور فرمایا: سفید دھاگے سے مراد (طلوع فجر کے وقت) دن کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے ممتاز ہونا ہے۔