حدیث نمبر: 3729
عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ وَقَلَّمَا يُصِيبُ مِنَ الْعَشَاءِ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَكْثَرَ مَا كَانَ يُصِيبُ مِنَ السَّحَرِ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ فَصْلًا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابوقیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مسلسل روزے رکھا کرتے تھے، وہ شام کو رات کے ابتدائی حصہ میں کھانا کم ہی کھاتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ زیادہ تر سحری ہی کرتے تھے، میں نے ان سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کرنا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر طبیعت کھانا کھانے پر آمادہ نہ ہو رہی ہو تو پھر بھی کھانے پینے کی معمولی مقدار استعمال کر کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3729
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1096، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17923»