الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ فَضْلِ السَّحُورِ وَالْأَمْرِ بِهِ باب: سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
حدیث نمبر: 3724
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ فِي السُّحُورِ وَالثَّرِيدِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو جاتا ہے: سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْبَرَکَۃُ فِی ثَلَاثٍ: الْجَمَاعَاتِ وَالثَّرِیْدِ وَ السَّحُوْرِ۔)) ’’تین چیزوں میں برکت ہے، جماعتوں میں، ثرید میں اور سحری کے کھانے میں۔‘‘ (الشعب للبیہقي:۲/۴۲۶/۲، المعجم الکبیر، صحیحہ: ۱۰۴۵) روٹی کو چور کر شوربے میں بھگو کر بنائے ہوئے کھانے کو ثرید کہتے ہیں،یہ زود ہضم ہوتا ہے اور کھانے کی زیادہ مقدار سے کفایت کرتا ہے، مثلا ایک انسان دو روٹیوں کی بھوک محسوس کر رہا ہے، لیکن ایک روٹی کا بنا ہوا ثرید اسے سیر کر سکتاہے۔ اسی طرح سحری کا کھانا بھیبابرکت چیز ہے۔ کھانے میں ’’برکت‘‘ کے معانی اس میں زیادہ خیر کے ہونے کے ہیں۔