حدیث نمبر: 3715
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میرے بندوں میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو سب سے جلدی روزہ افطار کرتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُو الْفِطْرَ۔)) (بخاری: ۱۹۵۷، مسلم: ۱۰۹۸)’’لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے، جب تک جلدی افطاری کریں گے۔‘‘
اور مسند احمد میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ((وَاَخَّرُوالسحور)) کے الفاظ بھی ہیں،یعنی افطاری میں جلدی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سحری میں تاخیر بھی کرتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَکِّرُوْا بِاْلإِفْطَارِ، وَأَخِّرُوْا السُّحُوْرَ۔)) ’’افطاری میں جلدی کرو، لیکن سحری میں تاخیر کرو۔‘‘ (السیوطي في’’الجامع الکبیر‘‘، الدیلمی: ۲/ ۱/ ۳، صحیحہ:۱۷۷۳)
سو معلوم ہوا کہ غروب ِ آفتاب کے بعد فوراً افطاری کر لینی چاہیے، سحری میں تاخیر کرنے کا یہ معنی ہے کہ ا س کو آخری وقت میں کھایا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض فرقوں کییہ عادت ہے کہ وہ افطاری کو غروب ِ آفتاب سے مؤخر کرتے ہیں اور سحری کے بند ہونے کا اعلان وقت سے پہلے کر دیتے ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوا جو لوگ غروب ِ آفتاب کے فوراً بعد افطاری کرتے ہیں، وہ خیر و بھلائی پر ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3715
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، قرة بن عبد الرحمن المعافري، الجمھور علي تضعيفه، وتساھل بعضھم فوثقه۔ اخرجه الترمذي: 700، 701 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7240»