حدیث نمبر: 3713
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب سورج غروب ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ افطار کر لیتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ’’جب رات آجائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے‘‘ ان سب کا مفہوم ایک ہی ہے اور اول الذکر دونوں چیزوں کا انحصار غروبِ آفتاب پر ہے، جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو مشرق سے رات کی آمد شروع ہو جاتی اور دن تو ویسے ہی ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس باب کی احادیثسے معلوم ہوا کہ جب سورج کی ٹکیہ غروب ہو جائے تو اسی وقت روزہ افطار کر دینا چاہیے اور مزید انتظار نہیںکرنا چاہیے، وگرنہ یہودیوں اور عیسائیوں سے مشابہت لازم آئے گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حنفی لوگ سورج غروب ہو جانے کے بعد مزید انتظار کرتے ہیں، بلکہ ایک حنفی عالم کو ہم نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مزید انتظار کرنا تقوی ہے۔ لیکنیہ عجیب تقوی ہے، جو احادیث ِ رسول پر عمل کرنے میں کوتاہی کا سبب بن رہا ہے۔ ہر کوئییہ کلیہ تو تسلیم کرتا ہے کہ افطاری کا وقت یہی ہے، لیکن معلوم نہیں کہ عملاً تاخیر کرنے کا سبب کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3713
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن قطبة بن قتادة، ومحمد بن بن ثعلبة مستور الحال۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 38 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16838»